نئی دہلی ، 27؍اگست(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق دہلی کی ایک عدالت نے نیشنل ہیرا لڈ معاملے میں سونیا گاندھی اور راہل گاندھی کو نوٹس جاری کیا ہے۔عدالت نے بی جے پی لیڈر سبرامنیم سوامی کی عرضی پر نوٹس جاری کرتے ہوئے کانگریس سے دستاویز طلب کیا ہے ۔یہ معاملہ نیشنل ہیرالڈ اخبار سے منسلک ہے جس کا قیام 1938میں جواہر لال نہرو نے کیا تھا ۔اس وقت سے یہ اخبار کانگریس کا ترجمان سمجھا جاتا رہاہے ۔اخبار کا مالکانہ حق ایسوسی ایٹیڈ جرنل لمیٹڈ یعنی (اے جے ایل )کے پاس تھا جو دو اور اخبار بھی شائع کرتی تھی۔ہندی میں’نوجیون‘اور اردو میں ’قومی آواز‘۔آزادی کے بعد1956میں ایسوسی ایٹیڈ جرنل کو غیر پروفیشنل کمپنی کے طور پر قائم کیا گیا اور کمپنی ایکٹ کی دفعہ 25کے تحت اس کو ٹیکس سے آزاد بھی کر دیا گیا۔2008میں اے جے ایل کی سبھی اشاعت کو معطل کر دیا گیا اور کمپنی 90کروڑ روپے کی مقروض بھی ہو گئی ، پھر کانگریس قیادت نے ’ینگ انڈین پرائیویٹ لمیٹڈ‘نامی ایک نئی غیر پروفیشنل کمپنی بنائی جس میں سونیا گاندھی اور راہل گاندھی سمیت موتی لال ووہرا، سمن دوبے، آسکر فرنانڈیز اور سیم پترو دا کو ڈائریکٹر بنایا گیا۔اس نئی کمپنی میں سونیا گاندھی اور راہل گاندھی کے پاس 76فیصد شیئر تھے جبکہ باقی کے 24فیصد شیئر دوسرے ڈائریکٹروں کے پاس تھے۔کانگریس نے اس کمپنی کو 90کروڑ روپے بطور قرض بھی دیا۔اس کمپنی نے اے جے ایل کواپنے قبضہ میں لے لیا۔بی جے پی لیڈر سبرامنیم سوامی نے 2012میں ایک درخواست دائر کرکے کانگریس لیڈروں پر دھوکہ دہی کا الزام لگایا۔انہوں نے اپنی درخواست میں کہا کہ ’ینگ انڈین پرائیویٹ لمیٹڈ‘نے صرف 50لاکھ روپے میں 90.25کروڑ روپے وصولنے کا طریقہ تلاش کیا جو قانون کے خلاف ہے۔سبرامنیم سوامی کی درخواست پر سماعت کے دوران راہل گاندھی اور سونیا گاندھی کو عدالت میں پیش بھی ہونا پڑا تھا ۔درخواست میں الزام لگایا گیا ہے کہ 50لاکھ روپے میں نئی کمپنی بنا کر اے جے ایل کی 2000کروڑ روپے کی جائیداد پر قبضہ کرنے کی چال چلی گئی۔